پاکستان میں خواتین کےخلاف 3سنگین واقعات


پاکستان میں خواتین کےخلاف 3سنگین واقعات


 آج کی اس نیوز میں یہ بتایاجائےگا ماضی قریب میں پاکستان میں تین خواتین کے خلاف جرائم کے سنگین واقعات پیش آئے جبکہ یہاں پر یہ بات بھی یاد رکھی جائے کہ عورتوں کا خیال ہر لحاظ سے رکھا جاتا ہے ان کا احترام کیا جاتا ہے عزت کی جاتی ہے ہمیشہ ان کو ایک درجہ دیا جاتا ہے ان کی حفاظت کی جاتی ہے اور اب یہ چیز صرف خیال اور باتوں تک محدود ہو چکی ہے 

 بڑھتے ہوئے یہ جرائم اس بات کی نشاندہی کرتےہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگ ان کو اس چیز کی کوئی فکر نہیں ہے حقیقت یہ ہےکہ خواتین کسی کی جاگیر نہیں ہے یا تو وہ کسی کی بہن بیٹی بیوی ماں ہے لیکن یہ اب باتیں ہی رہ گئی ہیں اس پر عملدرآمد دور جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے پچھلے دنوں ہونے والے تین جرائم کی طرف اگر نظر دوڑائیں اپنا آئینہ دیکھیں تو اسلام اور قانون اور لاء کے مطابق عورت کو ایک تحفظ حاصل ہے 

جیونیوزشاہزیب خانزادہ کےمطابق حناظریف کےقتل میں باپ ملوث ہےاس کا معاملہ اس طرح ہےکہ حناظریف نے اپنےشوہرسےخلع لیاجو کہ ایک اسلامی طریقہ ہے اب لڑکی کو اپنی زندگی گزارنے کا 💯 اختیار حاصل تھا وہ گھر نہیں جانا چاہتی تھی اپنے میکے بھی نہیں جانا چاہتی تھی اسے پتہ تھا میرا باپ ایک درندہ ہے

لیکن باپ نے یہ یقین دہانی کرائی بلکہ حلف اٹھایا کہ آپ کو میں اپنے ساتھ رکھوں گا کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاؤں گاگھرجاتے ہی اگلے دن والد نے اپنی ہی سگی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے ق ت ل کر دیا والد جو ایک محافظ تھا اس نے خیانت کی 

اسلام کااصل طریقہ

اگر حلف دینے کے بعد بھی تحفظ نہیں مل سکا تو ہمیں مسلمان ہونے پر خدشہ ظاہرکرنا چاہیے ایک مومن کے بارے میں اللہ قران میں فرماتے ہیں وعدے کی پاسداری کرو یہ تو ہر کسی کے لیے ہے جب اپنا ہی وعدہ کر کے مکر جائے رب کے سامنے کیا جواب دے گا

 2. عائشہ گلامنا یہ ایک مشہور ٹک ٹاکر ہے ٹک ٹاک پر فنی ہنسنے والی اور انٹرٹینمنٹ والی ویڈیوز بنا کر اپلوڈ کرتی تھی 14 اگست کو اس کے باپ نے اسے ق ت ل کیا اور خود مدعی بن کر تھانے پہنچ گیا 



یہاں ایک سوال نہیں کئی باتیں جنم لیتی ہیں اسلام کہتا ہے جب بچی جوان ہو جائے تو اس کی شادی کرو اولاد کو رولاؤ نہیں جب وہ دیکھتی ہے میری شادی ٹائم پہ نہیں ہوئی تووہ اپنےآپ کواندرسےخودکوکھانےلگتی ہےچڑھنے لگتی آخرمیں وہ ایک سٹیپ لیتی ہے جو نا قانون کے مطابق ہوتا ہے نہ اس کی اسلام اجازت دیتا ہےاور پھر ماں باپ کی غیرت جاگ جاتی ہے

پولیس نے جب تشویش کی تو پتہ چلاکہ دعویٰ کرنےوالا کرنے دھرنے والا نکلا پھر انہوں نے اس کو پکڑا جب تفتیش شروع کی تو اس کا بھائی بھی ملوث تھا 

 


3۔ حناجاوید

 جس کو اس کے شوہر نے اپنے ہی ملازم کے ساتھ مل کر زندگی ختم کی پہلے حنا جاوید کے شوہر نے لڑکی کے بھائی کو بلایا جب ڈھونڈنے لگے تو بہن کی لاش باتھ روم سے ملی ہاتھ بندھے ہوئے تھے منہ سے جھاگ تھی اور تشدد کے نشانات تھے بیوی کے بھائی کے مطابق فیصل اصغر یہ دوسری شادی کر چکا تھا پہلی شادی تشدد کی وجہ سے ٹوٹ چکی تھی اس کے اوپر بھی تشدد کرتا تھا 



ناظرین ہمارے پیارے ملک میں اس طرح کے واقعات سے کتابیں بھری پڑی ہیں ہم وہاں سے استفادہ حاصل کرنے عبرت لینے کی بجائے ان کو اپنی زندگی کے اندر اپلائی کر نے کی کوشش کررہے ہیں ایک بچی جو ماں باپ کا جگر کا ٹکڑا ہوتی ہے وہ جب کسی بندے سے شادی کرتے ہیں تو اس کی دولت تو دیکھتے ہیں لیکن اس کے اعمال نہیں دیکھتے اگر وہ صحیح سے جانچ لے تو اپنے جگر کے ٹکڑے کو کسی بغیرت کے ہاتھ نہیں 

دیں گے


جدید تر اس سے پرانی