حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہ اورابوبکرصدیق
ان دونوں کاآپس میں مقابلہ چلتارہتاہے ہر باری پہ خلیفہ اول جیت جاتا فاروق ہار جاتا
ایک وقت ایساآیا کہ جنگ کا وقت آگیااس اب دوسرے نمبر والے نے کہا کہ اس بار تو میں ضرور جیت جاؤں گا اور ان میں
حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ
بازی لے گئے انہوں نے اپنی طرف سے10 ہزار سواریوں کا انتظام کیا سواریوں کی رسیاں اور ان کے بیٹھنے کی جگہ اور تھیلیاں
سامان کی اور ان کو باندھنے والی تڑیاں بھی ساتھ دیں تین سو دینار دیے وہ سونےکےسکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں
ایسے بکھرے ہوئے پڑے تھے تو آپ فرمانے لگے کہ اج کے بعد غنی اگر کوئی بھی نیک عمل نہ کرے تو اس کے لیے جنت پکی ہے تو
فاروق خوش ہوئے
کہنے لگے کہ صدیق تو اس وقت غربت میں ہے مالدار نہیں ہے تو اس بار میں اس سے بازی لے جاؤں گایعنی میں اس سےجیت
جاؤں گا دونوں اپنے گھر گئے تو فاروق اعظم نے اپنے مال کا ادھا لیا اور رسول کے سامنے آکر پیش کردیا ان کا مال زیادہ لگ رہا تھا
جب خلیفہ اول
تشریف لائے وہ جو کچھ لائے تھے وہ کم تھا ان سے دیکھنے گئے اعتبار سے جب یہ ساری چیزیں سامنے رکھی گئی تو حضرت عمر سے پوچھا گیا کتنا پیچھے چھوڑ ائےہو ؟
وہ فرمانے لگے 50 فیصد لایا ہوں باقی آدھا گھر چھوڑ آیا اب صدیق اکبر سے پوچھا گیا کتنا لائے ہو وہ کہنے لگے بات یہ ہے کہ
میں اپنے بیت کا سارا کچھ لے آیا ہوں حتی کہ میں نے اپنے گھر جا کرجھاڑو پھیرا وہ سوئی بھی لےآیاجوبچی ہوئی تھی پیچھے
کچھ بھی نہیں چھوڑا اج کل کے اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو
کوئی بندہ اگر مدرسے میں چلا جائے اور ایک لاکھ یا دو لاکھ روپے جمع کروا دے اس سے مدرسے کا متولی پوچھ لے کہ پیچے
گھر کتنا چھوڑآئے ہوتووہ غصہ ہوجائےگااورکہے گا کہ آپ کی نیت ٹھیک نہیں ہےاس لیےجو میں نے آپکودیاہے وہ بھی واپس کرو تو
یہ موقع کا سوال ہی نہیں ہے مولوی صاحب کو یہی کہنا چاہیے کہ ٹھیک ہے جزاک اللہ اگر پھر موقع بنے تو دیتے رہیے تو جب یہ
موقع آیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے ابوبکر سے میں آگےنہیں بڑھ سکتا اب خلیفہ اول کے ساتھ بچا ہوا کچھ نہیں تھا ایک ٹاٹ تھا اس کو سی کر پہن لیا جبرائیل علیہ السلام
تشریف لائے اور آکر پوچھا یا رسول اللہ ابو بکر صدیق نے ٹاٹ کیوں پہنا ہوا ہے تو فرمانے لگے کہ انہوں نے سب کچھ اللہ اور
اس کے رسول کے لیے قربان کر دیا ہے اس لیے جو کچھ بچا ہے وہ پہن لیا ہے اور حضور جبرائیل کو کہنے لگے کہ اللہ سے پوچھ لیناابوبکر کہہ رہےہیں کہ مجھ سے راضی تو ہے نا اللہ اکبر
یہاں پرصحابہ کرام کےبڑےکارنامےسرانجام دیےگئے خلیفہ دوم کا زمانہ تھا بیٹھے ہیں آپ کے پاس صہیب ابن عمرصفوان ابن امیہ اتنےمیں بلال تشریف لےآئےتو آپ کہنےلگےکہ تم پیچھےہوجاؤ بلل
کوآگےآنےدو پھرسلمان آئےتواپ نےفرمایاکہ تم لوگ پیچھے ہو جاؤ پھر مقداد آئےکہنےلگے تم اورپیچھے ہوجاؤاس کےبعدابوہریرہ ہے
فرمانے لگے تو آپ پیچھےہوجاؤ ان کو اسی طرح دھکیلتے ہوئےجوتیوں تک لےگئےتوغصےکی وجہ سےیہ لوگ باہرنکل
گئےسفیان کہنےلگےکہ خطاب کےبیٹےنےہمارےساتھ کیسارویہ اختیارکیاہواہےغلاموں کوآگےبٹھایاہمیں جوتیوں پردھکیل دیا تو ابن عمرو کہنےلگے کہ قصور ان کا نہیں ہے قصورہمارا ہے انہوں نے
پہل کی اور قربانیاں کی وہ ہم سے آگے نکل گئے آج ہم پیچھےکھڑےہوئےہیں کہیں ایسانہ ہوکہ ہم آخرت میں بھی جنت سےپیچھےرہ جائیں تو یہ فورا واپس آئےاورخلیفہ وقت
سےکہنےلگےکہ جوآپ نےہمارےساتھ کیاوہ ٹھیک ہے ہم اسی لائق ہیں لیکن ہمیں ایک راستہ بتا دیجئےتاکہ ہم آگےنہیں بڑھ سکیں تو
ان کے برابرہوجائیں تو ان کونصیحت کرنےلگےکہ اگرتم ان کے تسویہ ہونا چاہتےہوتو پھر تم بھی اللہ کے راستے میں نکل جاؤ یہ بولنے لگے ٹھیک ہے سارےوہیں سے چلے مکہ واپس ہے
400 نوجوان قریشیوں نے اپنے بستر بوریا باندھے اور شام کے اندر جنگ ہو رہی تھی وہاں پہنچ گئے جب انہوں نے ہجرت کی تو
حارث ابن ہشام جو کہ ابو جہل کا بھائی تھا اس کو مکےسےباہرچھوڑنےکےلیےنوجوانوں کو سمندر آیالیکن جب یہ جارہےتھےتولوگ رورہےتھے
