پاکستان اور انڈیا میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کون بہتر ہے؟
پاکستان اور انڈیا میں ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کون بہتر ہے؟ اس بارے میں دنیا نہیں جانتی تھی جب 2025 مئی کو پاکستان نے انڈیا کو دھول چٹائی ساری دنیا میں یہ چرچے ہونے لگے کہ پی اے ایف ایئر فورس از دی بیسٹ لیکن کچھ پہلےانیلسز کرنے والے لوگ جیسا کہ ایر چیف ریٹائر مسعود اختر نے بھی پہلے واضح کر دیا تھا کہ پاکستان انڈیا کو لازمی طور پر شکست دے گا یہ بات انہوں نے ٹی سی ایم اوریجنل چینل پر بیٹھ کر کی تھی آج ان کو ٹی وی چینل پر پھر بلایا گیا اور وجہ پوچھی گئی کہ آپ کو کیسے پتہ تھا پاکستان بھارت کو شکست دے گا تو انہوں نے اپنا تجزیہ بتایا۔
پاکستان اور بھارت کی ایئر فورس کا موازنہ
پاکستان اور انڈیا کی ایئر فورس ایک ہی جگہ سے تربیت پانے والی ہے نور خان سے انڈیا کے پاس کوانٹٹی زیادہ ہے فوج زیادہ ہے ہتھیاروں کی تعداد بھی زیادہ ہے لیکن پاکستان کے جو موجودہ ایئر چیف مارشل ہیں انہوں نے اپنی جہاز اڑانے والی ترتیبوں اور تکنیک کے اوپر اتنا زیادہ محنت کی ہے کہ بھارت کے زیادہ افراد بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
مسعود اختر نے کہا کہ ہمارا جو پیلٹ ہے ان کو مستقل اور ہر طرح سے ٹرین کیا جاتا رہا پاکستان نے جن دوسرے ممالک کو ٹریننگ دی ان کے اوپر اتنا زیادہ فوکس اور توجہ نہیں دی۔
پاکستان کی جدید ٹیکنالوجی اور میزائل سسٹم
پاکستان نے ایسے جدید میزائل بنائے جن میں ڈرونز کلر ڈرونز بیوی ارز ہم نے اس کے ساتھ ساتھ ایسا ریڈار سسٹم انٹیگریٹ کر لیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ انے والے وقت میں انسانی دماغ سے زیادہ اے آئی کو استعمال کیا جائے گا کیونکہ جو انسانی انکھ ہے وہ ایک وقت میں ایک ہی چیز کو کور کرتی ہے ایک ہی اینگل سے جبکہ اے آئی ہر طرح سے اگے سے پیچھے سے معائنہ کرتی ہے اور بہت جلد ہی فیصلہ لیتی ہے کہ میزائل کو بلسٹک میزائل کو ڈرونز ہیں جو اکروش میزائل ہیں ساروں کو ایک ہی وقت میں اور جلدی میں ان کو کنٹرول کرتا ہے۔
مستقبل کی جنگ میں مصنوعی ذہانت کا کردار
مسعود اختر نے کہا کہ انے والی جنگ اس سے بھی زیادہ تیز ہوگی۔
انہوں نے کہا ہے کہ فیصلہ کرتے ہوئے کمانڈر کو یہ سیکھنا ہوگا کہ اے ائی الگورتھم ان ٹو ان ٹو ڈیٹا لنکس ہم نے یہ چیز پہلے کسی حد تک کی ہوئی ہے لیکن مسعود اختر کہتے ہیں کہ مجھے لگتا ہے اس میں کوئی سیکرٹ نہیں ہے ہم نے اس کو ملٹی پلائی کر لیا آرمی اور نیوی بھی بنائی۔
بھارت کی جانب سے ممکنہ حملے پر مسعود اختر کا تجزیہ
ہم نے ڈی سی ایم اوریجنل کو انٹرویو دیتے ہوئے مسعود اختر نے کہا کہ اس بار اگر ہمارے کسی بھی ہیڈ کو نشانہ بنایا گیا تو صورتحال کچھ اس طرح ہوگی کہ پچھلی دفعہ ہمارے ہر چیز مارشل نے اپنی حدود سے باہر جا کر ڈرونز اور کلر ڈرونز کو روکنے میں خود کردار ادا کیا اور ان کے بھی ہماری طرف آئے یعنی دونوں طرف سے آپس میں ٹکرانے کے سین بنے۔
انہوں نے ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب سپر پاور اور ایران کے درمیان لڑائی ہوئی تو ایران نے اپنائے حرمز کو اپنا ہتھیار بنایا اور اگے ا کر بیٹھ گئے۔
بھارت کے اہم مقامات کو نشانہ بنانے کی بات
انہوں نے کہا ہے کہ اس میں دیکھنے والوں کے لیے بہت سارے اسباب ہیں کہ اگر بھارت نے اس بار کوئی بھی ہیڈ کوارٹر کا سوچا تو ہم ان کے بینگلور یا اس طرح کے جو پریمیم اور لگزری جگہیں ہیں نشانہ اور ہدف بنائیں گے۔
2019 کے بعد پاکستان اور بھارت کی ایئر فورس
اینکر نے مسعود اخترسے سوال کرتے ہوئے کہ 2019 میں جب بھارت کی ایئر فورس پاکستان میں یعنی بالاکوٹ میں داخل ہوئی تو اس وقت پاکستان ایئر فورس میں ان کے جہاز مار گرائے تو ساری دنیا میں یہی چرچے تھے کہ پاکستان کی ایئر فورس انڈیا کی ایئر فورس سے بہتر ہے تو آج آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ انڈیا کی ایئر فورس بھی ایک ہیوی اور ٹرینڈ ایئر فورس ہے۔
مزید اینکر نے یہ سوال کیا کہ بھارت نے 2019 میں شکست کے بعد فرانس سے رافل خرید لیے تو یہ چرچے ہونے لگے کہ بھارت اب پاکستان سے اوپر چلا گیا کیونکہ بھارت کے پاس امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی بھی ہے۔
بھارت کی رافیل ٹیکنالوجی اور پاکستان کی ٹیکنالوجی
اس پر مسعود اختر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپ کی بات درست ہے کہ جو نئے بھارت کے آرمی چیف ہیں انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ دیا ہے کہ بھارت اب ٹیکنالوجی کی طرف بڑھے گا لیکن پاکستان کے پاس چائنہ کی ٹیکنالوجی ہے اور بھارت کے پاس امریکہ کی دونوں کی ٹیکنالوجی بہت پاور فل ہے۔
پاکستان کے اتحادی ممالک
لیکن انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 2025 میں اکیلا تھا لیکن اس وقت اس کے ساتھ تین مضبوط اتحاد ہیں جن میں پہلا نام سعودی عرب کا ہے دوسرا ترکی کا ہے تو پاکستان انڈیا کو پھر بھی ہرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انڈیا بھول کر بھی پاکستان پر میزائل حملہ نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید بہت ساری گفتگو کی ہے ان شاءاللہ ہم اگلے ٹاپک میں اس کو بیان کریں گے۔