پہلا سبب توبہ کرنا ہے۔
توبہ کا مطلب ہے کہ اپنے گناہوں پر
پشیمان ہونا اور ان کو چھوڑنے کا پکا ارادہ کرنا۔ اس کا نام ندامت ہے۔ دل میں اللہ تعالی سے عہد کرنا ہے کہ میں گناہوں سے باز آتا ہوں۔ اللہ تعالی ایسے لوگوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
اس کی مثال ڈیلیٹ بٹن کی طرح ہے۔
جب ان باکس میں میسج بھرے ہوئے ہوں تو ان کو سلیکٹ کر کے پھر ڈیلیٹ بٹن پر کلک کر دینا پھر اس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے کبھی گناہ کیا ہی نہیں۔
دوسرا سبب استغفار کرنا ہے۔
استغفار کا مطلب ہے شرمندہ ہونا، یعنی دل میں یہ سمجھنا کہ مجھ سے کوتاہی ہو گئی ہے۔ مجھے یہ کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ جو سینیہ میں ملامت ہوتی ہے اسی کو استغفر اللہ کہتے ہیں۔ آدمی کی ساری پریشانیاں صرف رب من کل ذنب سے ختم ہو سکتی ہیں۔
ایک دفعہ حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہ بیٹھے ہوئے تھے
۔ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ حضرت جی! گناہ بہت زیادہ ہے مجھے کوئی نسخہ بتا دیجئے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ رجوع الی اللہ کرو۔ پھر ایک اور شخص آیا اور کہنے لگا کہ حضرت بارش نہیں ہو رہی، کچھ بتائیے۔ تو انہوں نے اس کو بتایا کہ انابت الی اللہ کرو۔
ساتھ بیٹھا کہنے لگا کہ آپ کے پاس ایک ماسٹر کیی آ گئی ہے، ہر کسی کو وہی بتاتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا، بلکہ قرآن یہ کہہ رہا ہے۔ چنانچہ رب تعالی فرماتے ہیں کہ بے شک وہ تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہے، بارشیں برسانے والا ہے، وہی تمہیں مالدار کرنے والا ہے، بیٹے دینے والا ہے، جنت کو تمہارے لیے سجانے والا ہے، اور اس میں شہد اور دودھ کی نہریں چلانے والا ہے۔ یعنی ہر پریشانی کا حل یہی ہے۔
چنانچہ ایک واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمت اللہ علیہ ایک مرتبہ کہیں پر سفر کرنا چاہتے تھے۔ سوچا کہ کسی خادم کو لیے بغیر چلا جاتا ہوں۔ جب گئے تو راستے میں مغرب کا وقت ہو گیا۔ سوچا یہیں عشاء کی نماز پڑھ لیتا ہوں اور سو جاتا ہوں، صبح اٹھ کر اپنے سفر کا آغاز کروں گا۔
تو بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں مسجد کا خادم آیا اور کہنے لگا کہ خالی کر دو، یہ جگہ، باہر چلے جاؤ۔ لیکن امام صاحب بیٹھے رہے۔ دروازہ بند کرنے والے نے پھر کہا کہ بڑے میاں! مجھے لگتا ہے آپ کو میری سمجھ نہیں آ رہی، اگر نہیں جاؤ گے تو میں تمہاری گٹھڑی اٹھا کر پھینک دوں گا۔
احمد نے اللہ تعالی کی طرف دیکھا اور کہا کہ مجھ سے ایسی کیا غلطی ہو گئی ہے کہ یہ شخص مجھ پر جھنگاڑا ہوا ہے۔ خیر! اپنی تجوری اٹھا کر باہر آ گیا۔ سامنے دیکھا ایک نان بھائی کی دکان تھی، وہ گرم روٹیاں لگا رہا تھا۔ اس کے تندور میں آگ جل رہی تھی۔ چونکہ سردیوں کا موسم تھا اور آگ مدد دیتی ہے، اس سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک رات آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں؟
اس شریف النفس نے کہا کہ ضرور تشریف لائیے، بیٹھ جائیے۔ حمبل رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں وہ شخص نان لگاتا ہے اور کہتا ہے استغفر اللہ۔ بڑے میاں ہنس رہے تھے۔ اس تندور والے نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہو گیا؟ وہ فرمانے لگے کہ کیا اتنے خوش نصیب ہو، ہر وقت اللہ کا ذکر کر رہے ہو۔ کہنے لگا میری عادت بن چکی ہے اور اس عمل کی وجہ سے رب تعالی نے مجھے مستجاب الدعوات بنا دیا ہے۔
پوچھا تمہیں کیسے یقین ہے کہ تمہاری ہر دعا قبول ہوتی ہے؟ وہ نوجوان کہنے لگا میں نے رب ذوالجلال سے اج تک جو بھی مانگا، اس نے مجھے دیا۔ صرف ایک دعا میری رہتی ہے، ابھی تک وہ یہ ہے کہ میں نے سنا ہے ایک امام احمد بن حنبل ہیں جو بہت بڑے محدث ہیں، فقیہ ہیں۔
میرا کام ایسا ہے کہ میں ان سے ملنے جا نہیں سکتا۔ میرا دل بڑا کرتا ہے، بس یہی رہتا ہے۔ باقی سب کچھ مکمل ہے۔ امام صاحب کھڑے ہوئے، ان کو گلے لگایا اور کہا تمہاری یہ دعا بھی قبول ہو گئی ہے، میں ہی وہی ہوں جس سے تم ملنا چاہتے ہو۔
اسی لیے کہا گیا ہے کہ اس میں دنیا کے بھی فائدے ہیں اور آخرت کے بھی فائدے۔ خواتین کو اس بارے میں سب سے زیادہ نصیحت کی جاتی ہے کہ دن بھر جھاڑو لگاتی ہیں، کپڑے دھوتی ہیں، استری کرتی ہیں، کھانا بناتی ہیں، بچوں سے اور شوہر سے لڑنے جھگڑنے کی بجائے، اگر ندامت والا رویہ اختیار کیاجائے، تو پھر دیکھیے گا کہ کیسے ایک بہترین انقلاب آتا ہے، زندگی سنور سکتی ہے۔
ہمارا اکثر اوقات فارغ ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے فائدہ نہیں اٹھا پاتے۔ بعض وقت شیطانی وسوسے دل میں آتے ہیں، کبھی کبیرہ گناہ ہو جاتے ہیں، شیطان کے حملہ آور ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ دل میں جب تک کوئی چیز زندہ نہ ہو، دل مردہ ہو جاتا ہے۔ ہر وقت ندامت میں رہنے سے قلب خوش رہتا ہے۔